لاہور، پاکستاننماز کے اوقات
زبان: اردو
اردو دستیابانگریزی ترجمہ بعد میںعربی ترجمہ بعد میں
رابطہ

علمی انتخاب

اقوالِ زریں

اہلِ علم کے اقوال، اصل عبارت اور حوالہ کے ساتھ۔

علم حاصل کرنا اور نفل نماز — امام شافعی

امام محمد بن ادریس الشافعی ﵀ (م 204ھ / 820ء) نے علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

طَلَبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ النَّافِلَةِ.
علم حاصل کرنا نفل نماز سے افضل ہے۔

ابن ابی حاتم، آداب الشافعی، ص 72؛ بیہقی، المدخل، ص 310؛ ابن عبد البر، جامع بیان العلم، ج 1، ص 123۔

اس قول کی ربیع بن سلیمان سے متعدد صحیح سندیں ہیں۔
قول کی تفصیل ←

علم کے ذریعے عبادت — امام زہری

امام ابن شہاب الزہری ﵀ (م 124ھ / 742ء) فرماتے ہیں:

مَا عُبِدَ اللَّهُ بِمِثْلِ الْعِلْمِ.
اللہ کی عبادت علم جیسی کسی چیز کے ساتھ نہیں کی گئی۔

ابن عبد البر، جامع بیان العلم، ج 1، ص 224–225؛ بیہقی، شعب الإیمان، ج 6، ص 380۔ یہاں «العلم» والا لفظ ہے؛ «الفقه» دوسرے طریق کا لفظ ہے۔

یہ اثر معمر سے ہشام بن یوسف اور عبد الرزاق، دونوں کے طریق سے مروی ہے؛ یہ اثر صحیح ہے۔
قول کی تفصیل ←

علم معروف اہلِ علم سے لیجیے — شعبہ

امام شعبہ بن الحجاج ﵀ (م 160ھ / 776ء) کی نصیحت ہے:

خُذُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَشْهُورِينَ.
علم معروف اہلِ علم سے حاصل کرو۔

ابن ابی حاتم، الجرح والتعدیل، ج 2، ص 28۔

معاذ بن زبیر علی زئی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
قول کی تفصیل ←

طائفۂ منصورہ اور اصحابِ حدیث — امام احمد

امام احمد بن حنبل ﵀ (م 241ھ / 855ء) سے طائفۂ منصورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:

إِنْ لَمْ تَكُنْ هَذِهِ الطَّائِفَةُ الْمَنْصُورَةُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ، فَلَا أَدْرِي مَنْ هُمْ؟
اگر یہ مدد یافتہ جماعت اصحابِ حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ وہ کون ہیں۔

حاکم، معرفۃ علوم الحدیث، ص 2؛ خطیب بغدادی، شرف اصحاب الحدیث، ص 27۔

اس قول کی سند صحیح ہے۔
قول کی تفصیل ←

علم کے لیے صحابہ اور اکابر کی طرف رجوع — ابن مسعود

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ﵁ (م 32 یا 33ھ / تقریباً 652–653ء) فرماتے ہیں:

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَأَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصَاغِرِهِمْ، فَذَلِكَ حِينَ هَلَكُوا.
لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک انہیں علم محمد ﷺ کے صحابہ اور اپنے اکابر سے ملتا رہے۔ جب علم ان کے کم مرتبہ لوگوں کی طرف سے آنے لگے تو وہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا۔

ابن المبارک، الزہد، ج 1، ص 281؛ طبرانی، المعجم الکبیر، ج 9، ص 114؛ ابن عبد البر، جامع بیان العلم، ج 1، ص 617۔

یہ اثر ابو اسحاق سبیعی سے سعید بن وہب کے طریق پر ثوری، شعبہ اور معمر کی روایت میں آیا ہے؛ یہ اثر صحیح ہے۔
قول کی تفصیل ←

علم اکابر سے حاصل کرنے کی اہمیت — عمر بن خطاب

سیدنا عمر بن خطاب ﵁ (م 23ھ / 644ء) بیان فرماتے ہیں:

قَدْ عَلِمْتُ مَتَى صَلَاحُ النَّاسِ، وَمَتَى فَسَادُهُمْ: إِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الصَّغِيرِ اسْتَعْصَى عَلَيْهِ الْكَبِيرُ، وَإِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الْكَبِيرِ تَابَعَهُ الصَّغِيرُ فَاهْتَدَيَا.
میں جانتا ہوں کہ لوگوں کی درست روی اور بگاڑ کب ہوتا ہے: جب فقہ کم مرتبے والے سے آئے تو بڑا اسے قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے، اور جب بڑے سے آئے تو چھوٹا اس کی پیروی کرتا ہے؛ یوں دونوں ہدایت پاتے ہیں۔

خطیب بغدادی، الفقیہ والمتفقہ، ج 2، ص 158؛ ابن عبد البر، جامع بیان العلم، ج 1، ص 615۔ ابو عبید القاسم بن سلام ﵀ (م 224ھ / 838ء) کے مطابق «چھوٹا» سے مراد عمر نہیں، علمی مرتبہ ہے؛ ابن حجر، فتح الباری، ج 13، ص 301۔

یہ اثر صحیح ہے؛ ابن حجر نے مصنف قاسم بن اصبغ میں اس کے دوسرے لفظ کی سند صحیح قرار دی ہے۔
قول کی تفصیل ←

اصحابِ حدیث کے ساتھ رہنے کی وصیت — امام شافعی

امام محمد بن ادریس الشافعی ﵀ (م 204ھ / 820ء) فرماتے ہیں:

عَلَيْكُمْ بِأَصْحَابِ الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُمْ أَكْثَرُ النَّاسِ صَوَابًا.
اصحابِ حدیث کے ساتھ رہو؛ لوگوں میں وہ زیادہ درست بات پر ہوتے ہیں۔