لاہور، پاکستاننماز کے اوقات
زبان: اردو
اردو دستیابانگریزی ترجمہ بعد میںعربی ترجمہ بعد میں
رابطہ

علمی انتخاب

اقوالِ زریں

اہلِ علم کے اقوال، اصل عبارت اور حوالہ کے ساتھ۔

2 قول ملے · موضوع: اکابر · تمام اقوال دیکھیں

علم کے لیے صحابہ اور اکابر کی طرف رجوع — ابن مسعود

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ﵁ (م 32 یا 33ھ / تقریباً 652–653ء) فرماتے ہیں:

لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَأَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصَاغِرِهِمْ، فَذَلِكَ حِينَ هَلَكُوا.
لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک انہیں علم محمد ﷺ کے صحابہ اور اپنے اکابر سے ملتا رہے۔ جب علم ان کے کم مرتبہ لوگوں کی طرف سے آنے لگے تو وہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا۔

ابن المبارک، الزہد، ج 1، ص 281؛ طبرانی، المعجم الکبیر، ج 9، ص 114؛ ابن عبد البر، جامع بیان العلم، ج 1، ص 617۔

یہ اثر ابو اسحاق سبیعی سے سعید بن وہب کے طریق پر ثوری، شعبہ اور معمر کی روایت میں آیا ہے؛ یہ اثر صحیح ہے۔
قول کی تفصیل ←

علم اکابر سے حاصل کرنے کی اہمیت — عمر بن خطاب

سیدنا عمر بن خطاب ﵁ (م 23ھ / 644ء) بیان فرماتے ہیں:

قَدْ عَلِمْتُ مَتَى صَلَاحُ النَّاسِ، وَمَتَى فَسَادُهُمْ: إِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الصَّغِيرِ اسْتَعْصَى عَلَيْهِ الْكَبِيرُ، وَإِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الْكَبِيرِ تَابَعَهُ الصَّغِيرُ فَاهْتَدَيَا.
میں جانتا ہوں کہ لوگوں کی درست روی اور بگاڑ کب ہوتا ہے: جب فقہ کم مرتبے والے سے آئے تو بڑا اسے قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے، اور جب بڑے سے آئے تو چھوٹا اس کی پیروی کرتا ہے؛ یوں دونوں ہدایت پاتے ہیں۔