علم حاصل کرنا اور نفل نماز — امام شافعی
امام محمد بن ادریس الشافعی ﵀ (م 204ھ / 820ء) نے علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ النَّافِلَةِ.علم حاصل کرنا نفل نماز سے افضل ہے۔علمی انتخاب
اہلِ علم کے اقوال، اصل عبارت اور حوالہ کے ساتھ۔
6 قول ملے · موضوع: علم · تمام اقوال دیکھیں
امام محمد بن ادریس الشافعی ﵀ (م 204ھ / 820ء) نے علم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
طَلَبُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ النَّافِلَةِ.علم حاصل کرنا نفل نماز سے افضل ہے۔امام ابن شہاب الزہری ﵀ (م 124ھ / 742ء) فرماتے ہیں:
مَا عُبِدَ اللَّهُ بِمِثْلِ الْعِلْمِ.اللہ کی عبادت علم جیسی کسی چیز کے ساتھ نہیں کی گئی۔امام شعبہ بن الحجاج ﵀ (م 160ھ / 776ء) کی نصیحت ہے:
خُذُوا الْعِلْمَ مِنَ الْمَشْهُورِينَ.علم معروف اہلِ علم سے حاصل کرو۔سیدنا عبد اللہ بن مسعود ﵁ (م 32 یا 33ھ / تقریباً 652–653ء) فرماتے ہیں:
لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ﷺ، وَأَكَابِرِهِمْ، فَإِذَا أَتَاهُمُ الْعِلْمُ مِنْ قِبَلِ أَصَاغِرِهِمْ، فَذَلِكَ حِينَ هَلَكُوا.لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک انہیں علم محمد ﷺ کے صحابہ اور اپنے اکابر سے ملتا رہے۔ جب علم ان کے کم مرتبہ لوگوں کی طرف سے آنے لگے تو وہ ان کی ہلاکت کا وقت ہوگا۔سیدنا عمر بن خطاب ﵁ (م 23ھ / 644ء) بیان فرماتے ہیں:
قَدْ عَلِمْتُ مَتَى صَلَاحُ النَّاسِ، وَمَتَى فَسَادُهُمْ: إِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الصَّغِيرِ اسْتَعْصَى عَلَيْهِ الْكَبِيرُ، وَإِذَا جَاءَ الْفِقْهُ مِنْ قِبَلِ الْكَبِيرِ تَابَعَهُ الصَّغِيرُ فَاهْتَدَيَا.میں جانتا ہوں کہ لوگوں کی درست روی اور بگاڑ کب ہوتا ہے: جب فقہ کم مرتبے والے سے آئے تو بڑا اسے قبول کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے، اور جب بڑے سے آئے تو چھوٹا اس کی پیروی کرتا ہے؛ یوں دونوں ہدایت پاتے ہیں۔امام محمد بن ادریس الشافعی ﵀ (م 204ھ / 820ء) فرماتے ہیں:
عَلَيْكُمْ بِأَصْحَابِ الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُمْ أَكْثَرُ النَّاسِ صَوَابًا.اصحابِ حدیث کے ساتھ رہو؛ لوگوں میں وہ زیادہ درست بات پر ہوتے ہیں۔