سرزمینِ شام کی جغرافیائی حدود
سب سے پہلے تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ قدیم اہلِ علم اور جغرافیہ نگاروں کے ہاں ’’شام‘‘ کسی ایک شہر یا موجودہ سیاسی سرحدوں میں محدود خطے کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک وسیع سرزمین کا نام تھا۔
امام ابو اسحاق الإصطخری ﵀ (٣٤٦ھ) شام کی حدود بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَأَمَّا الشَّامُ فَإِنَّ غَرْبِيَّهَا بَحْرُ الرُّومِ، وَشَرْقِيَّهَا الْبَادِيَةُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى الْفُرَاتِ، ثُمَّ مِنَ الْفُرَاتِ إِلَى حَدِّ الرُّومِ، وَشَمَالِيَّهَا بِلَادُ الرُّومِ، وَجَنُوبِيَّهَا حَدُّ مِصْرَ وَتِيهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَآخِرُ حُدُودِهَا مِمَّا يَلِي مِصْرَ رَفَحُشام کے مغرب میں بحرِ روم ہے، مشرق میں ایلہ سے فرات تک صحرا ہے، پھر فرات سے سرحدِ روم تک؛ شمال میں بلادِ روم، اور جنوب میں مصر کی سرحد اور تیہِ بنی اسرائیل ہے، جبکہ مصر کی جانب اس کی آخری حد رفح ہے۔
اور شام کے مختلف علاقوں کی تقسیم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَكُوَرُ الشَّامِ إِنَّمَا هِيَ جُنْدُ فِلَسْطِينَ وَجُنْدُ الْأُرْدُنِّ وَجُنْدُ حِمْصَ وَجُنْدُ دِمَشْقَ وَجُنْدُ قِنَّسْرِينَ وَالْعَوَاصِمُ وَالثُّغُورُشام کے بڑے خطے یہ ہیں: جندِ فلسطین، جندِ اردن، جندِ حمص، جندِ دمشق، جندِ قنسرین، العواصم اور سرحدی علاقے۔
قرآنِ کریم میں شام اور اس کی برکت
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ [سورۃ الإسراء: ١]
پاک ہے وہ ذات جو رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے خاص بندے کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے ارد گرد کے ماحول کو ہم نے برکتوں سے مالامال کر دیا ہے، تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں؛ بلاشبہ وہی ہر بات سننے والا اور ہر شے کو دیکھنے والا ہے۔
امام ابو جعفر الطبری ﵀ (٣١٠ھ) اس مقام پر فرماتے ہیں:
الَّذِي جَعَلْنَا حَوْلَهُ الْبَرَكَةَ لِسُكَّانِهِ فِي مَعَايِشِهِمْ وَأَقْوَاتِهِمْ وَحُرُوثِهِمْ وَغُرُوسِهِمْاللہ تعالیٰ کے فرمان کی مراد یہ ہے کہ ہم نے مسجدِ اقصیٰ کے گرد و نواح کے باسیوں کے لیے ان کی معیشت، روزمرہ کی خوراک، ان کی کھیتیوں اور ان کے باغات میں بے پایاں خیر و برکت رکھ دی۔
اور پروردگارِ عالم کا فرمانِ عالی شان ہے:
وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ [سورۃ الأعراف: ١٣٧]
اور ہم نے اس قوم کو جو زمین میں بالکل بے بس اور کمزور کر دی گئی تھی، اس زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں؛ اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر و استقامت کے صلے میں تیرے رب کا مبارک وعدہ پورا ہو گیا، اور فرعون اور اس کی قوم کی تمام تر کاریگریوں اور اونچی اونچی عمارتوں کو ہم نے تہس نہس کر دیا۔
امام حسن بصری ﵀ (١١٠ھ) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
مَشَارِقَ الشَّامِ وَمَغَارِبَهَااس مبارک سرزمین سے مراد خطۂ شام کے تمام مشرق اور مغرب ہیں۔
اور امام قتادہ بن دعامہ ﵀ (١١٧ھ) فرماتے ہیں:
الَّتِي بَارَكَ فِيهَا: الشَّامُجس سرزمین میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے، وہ شام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ ﵇ کی زبانی بنی اسرائیل سے فرمایا:
يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَىٰ أَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ [سورۃ المائدة: ٢١]
اے میری قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، اور اپنی پیٹھوں کے بل واپس نہ پلٹنا، ورنہ خسارہ اٹھانے والوں میں ہو جاؤ گے۔
اور سیدنا ابراہیم اور لوط ﵉ کے متعلق فرمایا:
وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ [سورۃ الأنبياء: ٧١]
اور ہم نے ابراہیم اور لوط دونوں کو اس سرزمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔
امام قتادہ ﵀ فرماتے ہیں:
هَاجَرَا جَمِيعًا مِنْ كُوثَى إِلَى الشَّامِوہ دونوں کوثیٰ سے ہجرت کر کے شام آئے تھے۔
اور اللہ ذو الجلال نے شام کے فرماں روا سیدنا سلیمان ﵇ کے متعلق فرمایا:
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ [سورۃ الأنبياء: ٨١]
اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز چلنے والی ہوا کو مسخر کر دیا، جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے خوب واقف ہیں۔
امام طبری ﵀ فرماتے ہیں:
يَعْنِي: إِلَى الشَّامِ، وَذَلِكَ أَنَّهَا كَانَتْ تَجْرِي بِسُلَيْمَانَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى حَيْثُ شَاءَ سُلَيْمَانُ، ثُمَّ تَعُودُ بِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ بِالشَّامِاس سے مراد شام ہے؛ ہَوا سیدنا سلیمان ﵇ اور ان کے ساتھیوں کو ان کی خواہش کے مطابق جہاں چاہتے لے جاتی، پھر انہیں واپس شام میں ان کے مسکن تک لے آتی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَقَدْ بَوَّأْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مُبَوَّأَ صِدْقٍ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ [سورۃ يونس: ٩٣]
اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو نہایت عمدہ جائے سکونت عطا کی اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔
امام قتادہ ﵀ فرماتے ہیں:
بَوَّأَهُمُ اللَّهُ الشَّامَ وَبَيْتَ الْمَقْدِسِاللہ تعالیٰ نے انہیں شام اور بیت المقدس میں سکونت عطا فرمائی۔
اور اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ ﵇ اور ان کی والدہ سیدہ مریم ﵍ کے متعلق فرمایا:
وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ [سورۃ المؤمنون: ٥٠]
اور ہم نے ابنِ مریم اور ان کی والدہ کو ایک عظیم نشانی بنایا، اور دونوں کو ایک ایسی بلند جگہ پناہ دی جو ٹھہرنے کے لائق اور جاری پانی والی تھی۔
امام سعید بن المسیب ﵀ (٩٤ھ) اس مقام کے متعلق فرماتے ہیں:
دِمَشْقُوہ مقام دمشق ہے۔
احادیثِ نبویہ میں شام کی فضیلت
یہ وہ خطۂ ارض ہے جس کے لیے خود رسول اللہ ﷺ نے بار بار برکت کی دعا فرمائی۔
سیدنا عبداللہ بن عمر ﵁ما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَااے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔
صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور ہمارے نجد میں؟
آپ ﷺ نے پھر فرمایا:
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَااے اللہ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔
سیدنا زید بن ثابت ﵁ بیان کرتے ہیں: ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر چمڑے کے پارچوں سے کلامِ الٰہی کی آیات کو یکجا اور مرتب کر رہے تھے، کہ رسول اللہ ﷺ کے لبِ مبارک سے یہ نوید جاری ہوئی:
طُوبَى لِلشَّامِسرزمینِ شام کے لیے طوبیٰ، یعنی ابدی سعادت کی بشارت ہو!
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ کس سبب سے ہے؟
تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَااس لیے کہ خدائے رحمن کے فرشتے اپنے پر اس پر پھیلائے ہوئے ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن حوالہ ﵁ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً: جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِعنقریب حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ تم منظم اور الگ الگ لشکر بن جاؤ گے؛ ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں، اور ایک عراق میں۔
ابن حوالہ ﵁ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں وہ دور پا لوں تو آپ میرے لیے کس خطے کا انتخاب فرماتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
عَلَيْكَ بِالشَّامِ؛ فَإِنَّهَا خِيرَةُ اللَّهِ مِنْ أَرْضِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهَا خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَأَمَّا إِنْ أَبَيْتُمْ، فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ، وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِتم شام کو لازم پکڑنا؛ کیونکہ وہ تمام روئے زمین پر اللہ کی چنیدہ اور برگزیدہ سرزمین ہے، جہاں وہ اپنے بندوں میں سے چنے ہوئے لوگوں کو جمع فرما دیتا ہے۔ پھر اگر تم وہاں نہ جا سکو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پینا؛ کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے شام اور اہلِ شام کی حفاظت و کفالت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔
سیدنا ابو الدرداء ﵁ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي، فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِمیں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا کتاب کا ستون میرے سر کے نیچے سے اٹھا لیا گیا۔ مجھے گمان ہوا کہ اسے لے جایا جا رہا ہے، چنانچہ میں نے اپنی نگاہ اس کے پیچھے دوڑائی تو اسے شام کی طرف لے جایا گیا۔ سن لو! جب فتنے برپا ہوں گے تو ایمان شام میں ہوگا۔
سیدنا سلمہ بن نفیل الکندی ﵁ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ الشَّامُاہلِ ایمان کا اصل مرکز (ان کا مضبوط ٹھکانہ) سرزمینِ شام ہے۔
امام ابو موسیٰ المدینی ﵀ (٥٨١ھ) حدیث کے الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی اسلام کی اصل بنیاد اور اس کا حقیقی مسکن شام ہے؛ گویا آپ ﷺ نے اس فرمان سے فتنوں کے ہولناک دور کی جانب اشارہ فرمایا ہے کہ اس وقت سرزمینِ شام فتنوں کی آگ سے سب سے زیادہ مامون رہے گی اور اہلِ اسلام وہاں سب سے زیادہ سلامتی میں ہوں گے۔ (المجموع المغيث لأبي موسى المديني : ٤٨٠/٢)
اہلِ شام، علمِ سنت اور طائفۂ منصورہ
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ﵁ما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَائِمَةً بِأَمْرِ اللهِ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ أَوْ خَالَفَهُمْ، حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِمیری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے دین اور اس کے حکم پر ثابت قدم رہے گا؛ نہ ان کا ساتھ چھوڑ دینے والوں کی بے وفائی انہیں کوئی نقصان پہنچا سکے گی اور نہ ان کی مخالفت کرنے والوں کی دشمنی، یہاں تک کہ اللہ کا حتمی امر آن پہنچے اور وہ لوگوں پر غالب ہی رہیں۔
اس پر مالک بن یخامر السکسکی ﵀ نے سیدنا معاویہ ﵁ سے عرض کیا: میں نے سیدنا معاذ بن جبل ﵁ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ لوگ اہلِ شام ہیں۔
یہ سن کر مَلک شام سیدنا معاویہ ﵁ نے (خوشی سے) اپنی آواز بلند کی اور فرمایا: یہ مالک ہیں، جو بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ اہلِ شام ہیں۔
حافظ ابن رجب الحنبلی ﵀ (٧٩٥ھ) اہلِ شام اور طائفۂ منصورہ کے بارے میں ائمۂ حدیث کے اقوال کو یکجا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَأَمَّا مَنْ قَالَ مِنَ الْعُلَمَاءِ: أَنَّ هَذِهِ الطَّائِفَةَ الْمَنْصُورَةَ هُمْ أَهْلُ الْحَدِيثِ، كَمَا قَالَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَالْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُمْ؛ فَإِنَّهُ غَيْرُ مُنَافٍ لِمَا ذَكَرْنَاهُ؛ لِأَنَّ الشَّامَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِهَا يَسْتَقِرُّ الْإِيمَانُ وَمُلْكُ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ عُقْرُ دَارِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ فِيهَا مِنْ مِيرَاثِ النُّبُوَّةِ مِنَ الْعِلْمِ مَا يَحْصُلُ بِهِ سِيَاسَةُ الدِّينِ وَالدُّنْيَا، وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ بِالشَّامِ هُمُ الطَّائِفَةُ الْمَنْصُورَةُ الْقَائِمِينَ بِالْحَقِّ الَّذِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْجن اہلِ علم نے فرمایا کہ طائفۂ منصورہ سے مراد اہلِ حدیث ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن مبارک، یزید بن ہارون، احمد بن حنبل، علی بن مدینی، امام بخاری اور دوسرے ائمہ نے کہا ہے، تو یہ اہلِ شام والی روایات کے منافی نہیں؛ کیونکہ آخری زمانے میں ایمان اور اسلامی اقتدار شام میں قرار پائے گا، اور وہ اہلِ ایمان کا اصل مرکز ہوگا۔ پس وہاں علمِ نبوت کی ایسی میراث کا موجود ہونا ناگزیر ہے جس کے ذریعے دین و دنیا کا نظام قائم رہے، اور شام میں سنتِ نبوی کا علم رکھنے والے ہی وہ طائفۂ منصورہ ہوں گے جو حق پر قائم رہیں گے اور انہیں چھوڑ دینے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔
علامہ محمد ناصر الدین الالبانی ﵀ (١٤٢٠ھ) فرماتے ہیں: خوب جان لو کہ اس حدیث میں اہلِ مغرب سے مراد دراصل اہلِ شام ہیں، کیونکہ مدینہ منورہ کے اعتبار سے ان کا رخ شمال مغرب کی جانب واقع ہے۔ پس اس مبارک کلام میں سرزمینِ شام میں بسنے والے انصارِ سنت کے لیے ایک عظیم بشارت ہے، جو سنتِ نبوی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں، اس کی حفاظت کے لیے سینہ سپر ہیں، اور اس کی دعوت کے راستے میں ہر آزمائش پر صبر و استقامت سے قائم ہیں۔ (سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني : ٦٥٤/٢، رقم : ٩٦٥)
اسی بنا پر امام احمد بن حنبل ﵀ (٢٤١ھ) کے سامنے شام کے فضائل پر وارد احادیث کا ذکر ہوا تو فرمایا:
مَا أَكْثَرَ مَا جَاءَ فِيهِاس بارے میں کتنی کثرت سے روایات آئی ہیں!
پھر جب یہ احتمال پیش کیا گیا کہ شاید یہ فضائل صرف سرحدی علاقوں کے ساتھ خاص ہوں، تو امام احمد ﵀ نے اسے ناپسند کرتے ہوئے فرمایا:
الْأَرْضُ الْمُقَدَّسَةُ أَيْنَ هِيَ؟پھر ارضِ مقدس آخر کہاں ہے؟
اور حق پر قائم رہنے والی جماعت کے متعلق فرمایا: وہ اہلِ شام ہیں۔
امام ابو داود ﵀ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام احمد ﵀ کے سامنے اہل و عیال کو شام منتقل کرنے کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا:
الرَّمْلَةُ أَهْيَا الْمَوَاضِعِ كَمَا يَبْلُغُنَاہمیں جو خبر پہنچتی ہے اس کے مطابق رملہ وہاں کے نہایت سرسبز و خوش گوار مقامات میں سے ہے۔
اور جب حران کی طرف اہل و عیال سمیت منتقل ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:
نَعَمْ، لَا بَأْسَہاں، اس میں کوئی حرج نہیں۔
آخری زمانے کے واقعات میں شام
اور یہی شام وہ سرزمین ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے آنے والے عظیم فتنوں، معرکوں اور آخری زمانے کے واقعات میں بار بار ذکر فرمایا۔
سیدنا ابو الدرداء ﵁ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ، إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِبلاشبہ ہولناک معرکے، یعنی الملحمہ کے دن مسلمانوں کا اصل لشکری مرکز غوطہ کی سرزمین میں ہوگا، جو دمشق نامی شہر کے پہلو میں واقع ہے، اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہے۔
اور الملحمہ ایک عظیم معرکہ ہے جو آخری زمانے میں، دجال کے خروج سے قبل، مسلمانوں اور رومیوں کے مابین برپا ہوگا۔
سیدنا ابو ہریرہ ﵁ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رومیوں کے ساتھ آخری زمانے کے عظیم معرکے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالْأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ، مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍقیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق یا دابق میں اتریں گے، پھر مدینہ سے ان کے مقابلے کے لیے ایک لشکر نکلے گا جو اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا۔
پھر اس عظیم معرکے، فتحِ قسطنطنیہ اور اس کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
فَإِذَا جَاءُوا الشَّامَ خَرَجَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ، يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ، إِذْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَپھر جب وہ شام پہنچیں گے تو دجال نکل آئے گا۔ وہ جنگ کی تیاری اور صف بندی کر ہی رہے ہوں گے کہ نماز کے لیے اقامت کہی جانے لگے گی، اور اسی وقت عیسیٰ بن مریم ﵇ نازل ہوں گے۔
سیدنا نواس بن سمعان الکلابی ﵁ سے دجال کے طویل واقعے میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّهُ خَارِجٌ خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا، يَا عِبَادَ اللهِ فَاثْبُتُوادجال شام اور عراق کے درمیان ایک راستے سے نکلے گا، پھر دائیں اور بائیں ہر طرف فساد مچاتا پھرے گا۔ اے اللہ کے بندو! اس وقت ثابت قدم رہنا۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللهُ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ، بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ، وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ، إِذَا طَأْطَأَ رَأْسَهُ قَطَرَ، وَإِذَا رَفَعَهُ تَحَدَّرَ مِنْهُ جُمَانٌ كَاللُّؤْلُؤِ، فَلَا يَحِلُّ لِكَافِرٍ يَجِدُ رِيحَ نَفَسِهِ إِلَّا مَاتَ، وَنَفَسُهُ يَنْتَهِي حَيْثُ يَنْتَهِي طَرْفُهُ، فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُدٍّ فَيَقْتُلُهُدجال اسی سرکشی میں ہوگا کہ اللہ ذوالجلال مسیح عیسیٰ بن مریم ﵇ کو مبعوث فرمائے گا۔ وہ دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار کے پاس، زرد رنگ کے دو کپڑوں میں ملبوس، اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے، اور جب سر اٹھائیں گے تو موتیوں جیسے آبدار قطرے ڈھلکیں گے۔ جس کافر تک بھی ان کی سانس پہنچے گی وہ ہلاک ہو جائے گا، اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نگاہ پہنچے گی۔ پھر وہ دجال کا تعاقب کریں گے، یہاں تک کہ اسے بابِ لُد کے مقام پر جا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔
حدیث کے الفاظ «خَلَّةً بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ» کے متعلق امام ابو العباس القرطبی ﵀ (٦٥٦ھ) فرماتے ہیں:
خَلَّةً ... مَا بَيْنَ الْبَلْدَتَيْنِ، قَالَ غَيْرُهُ: هُوَ الطَّرِيقُ فِي الرَّمْلِ’’خَلَّة‘‘ سے مراد دو علاقوں کے درمیان کا راستہ ہے، اور بعض اہلِ لغت نے اسے ریت میں بنے ہوئے راستے کے معنی میں بیان کیا ہے۔
امام نووی ﵀ (٦٧٦ھ) فرماتے ہیں:
وَهُوَ الَّذِي رَجَّحَهُ صَاحِبُ نِهَايَةِ الْغَرِيبِ، وَفَسَّرَهُ بِالطَّرِيقِ بَيْنَهُمَاصاحبِ نہایہ نے بھی اسی قراءت کو راجح قرار دیا اور اس کی تفسیر شام اور عراق کے درمیان راستے سے کی ہے۔
حافظ ابن کثیر ﵀ (٧٧٤ھ) سیدنا عیسیٰ ﵇ کے مقامِ نزول کے متعلق فرماتے ہیں:
هَذَا هُوَ الْأَشْهَرُ فِي مَوْضِعِ نُزُولِهِ أَنَّهُ عَلَى الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ الشَّرْقِيَّةِ بِدِمَشْقَان کے نزول کے مقام کے متعلق سب سے مشہور قول یہی ہے کہ وہ دمشق کے مشرقی سفید مینار پر نازل ہوں گے۔
جبکہ حافظ ابن رجب ﵀ فرماتے ہیں:
وَظَاهِرُ مَا تَقَدَّمَ مِنَ الْأَحَادِيثِ وَالْآثَارِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَنْزِلُ عِنْدَ بَابِ مَدِينَةِ دِمَشْقَ الشَّرْقِيِّگزشتہ احادیث و آثار کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عیسیٰ ﵇ دمشق کے مشرقی دروازے کے پاس نازل ہوں گے۔
اور اسی خطۂ شام میں بحیرۂ طبریہ کا ذکر بھی یاجوج و ماجوج کے واقعے میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
فَيَمُرُّ أَوَائِلُهُمْ عَلَى بُحَيْرَةِ طَبَرِيَّةَ، فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهَا، وَيَمُرُّ آخِرُهُمْ فَيَقُولُونَ: لَقَدْ كَانَ بِهَذِهِ مَرَّةً مَاءٌیاجوج و ماجوج کے اگلے گروہ بحیرۂ طبریہ کے پاس سے گزریں گے اور اس کا پانی پی جائیں گے، یہاں تک کہ جب ان کے آخری لوگ وہاں سے گزریں گے تو کہیں گے: کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا۔
سیدنا معاویہ بن حیدہ ﵁ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟
آپ ﷺ نے شام کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
هَاهُنَااس طرف۔
پھر فرمایا:
إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا، وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْتم جمع کیے جاؤ گے، کچھ پیدل، کچھ سوار، اور کچھ اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاتے ہوئے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﵀ (٧٢٨ھ) فرماتے ہیں:
وَدَلَّتِ الدَّلَائِلُ الْمَذْكُورَةُ عَلَى أَنَّ مُلْكَ النُّبُوَّةِ بِالشَّامِ، وَالْحَشْرَ إِلَيْهَا؛ فَإِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَا حَوْلَهُ يَعُودُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ، وَهُنَاكَ يُحْشَرُ الْخَلْقُ، وَالْإِسْلَامُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَكُونُ أَظْهَرَ بِالشَّامِمذکور دلائل اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ نبوت کی بادشاہت شام میں ہوگی (جس کا آغاز سیدنا معاویہ ﵁ سے ہوا بحمد اللہ) اور حشر بھی اسی کی طرف ہوگا؛ بیت المقدس اور اس کے گرد و نواح ہی کی جانب بالآخر خلق اور امر لوٹیں گے، وہیں لوگوں کو جمع کیا جائے گا، اور آخری زمانے میں اسلام کا ظہور شام میں زیادہ نمایاں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ [سورۃ ق: ٤١]
اور کان لگا کر سنو، جس دن پکارنے والا ایک قریب مقام سے پکارے گا۔
امام قتادہ ﵀ فرماتے ہیں:
بَلَغَنَا أَنَّهُ يُنَادِي مِنَ الصَّخْرَةِ الَّتِي بِبَيْتِ الْمَقْدِسِہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ پکار بیت المقدس کی صخرہ سے لگائی جائے گی۔
