غیر مسلموں کے عطیات سے مسجد کی تعمیر

غیر مسلم کا عطیہ مسلمانوں کی مصلحت جیسے مساجد کے لیے قبول کرنا جمہور فقہاء کے نزدیک جائز معلوم ہوتا ہے، بشرطیکہ اس سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو (یعنی وہ مسجد پر قابض نہ ہوں) اور یہ بھی کہ اسے مسجد کے معاملات میں کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہ ہو۔

.

اللہ عزوجل کے فرامین:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ [المائدة: 2]

يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ [المؤمنون: 51]

لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ [الممتحنة: 8]

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ [التوبة: 17]

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ [المائدة: 5]

سنتِ نبویہ سے کچھ باتیں

کفار کا مال اور ہدیہ مسلمانوں کی مصلحت میں قبول کرنا:

أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا (صحیح بخاری 3161)

عن أنس أن المقوقس أهدى للنبي صلى الله عليه وسلم بغلة بيضاء (صحیح مسلم 1392)

حديث اليهودية التي أهدت شاة مسمومة للنبي صلى الله عليه وسلم فأكلَ منها (صحیح بخاری 2617 و مسلم 2190)

.

دین کے اہم ترین معاملے اور نیکی(ہجرت) میں ایک غیر مسلم کی خدمات لینا:

واستأجر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر رجلا من بني الديل هاديا خريتا وهو على دين كفار قريش (صحیح بخاری 2264)

علماءِ سلف و متاخرین کے فتاویٰ

مساجد کی خرابی میں کوشش کرنا اور یہ کہ مساجد عبادت سے آباد ہوتی ہیں:

ابو حفص نسفی رحمہ اللہ (المتوفی: ٥٣٧ھ) فرماتے ہیں:

والمراد بالسعي في خرابه هو المنع عن الصلاة فيه دون تخريبه حقيقة فان عمارة المسجد تكون بالعبادة فيه لا بالبناء قال تعالى وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ اي بالعبادة لا بالبناء ولان منعهم عن العبادۃ فيه وتفريقهم يمنعهم عن تفقده فيتخرب ابنيته

(کفار و منافقین کا مسجد کی) خرابی کے لیے تگ و دو کرنے سے مراد اس میں نماز سے روکنا ہے، نہ کہ حقیقتاً اسے مسمار کرنا؛ کیونکہ مسجد کی آبادی اس میں عبادت کرنے سے ہوتی ہے نہ کہ صرف عمارت کھڑی کرنے سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ "اور آباد گھر کی قسمیعنی عبادت کے ذریعے آباد، نہ کہ عمارت کے ذریعے۔ اور اس لیے بھی کہ انہیں اس میں عبادت سے روکنا اور انہیں تتر بتر کر دینا انہیں مسجد کی دیکھ بھال سے روک دیتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی عمارتیں خراب ہو جاتی ہیں۔

[التيسير في التفسير لأبي حفص النسفي (٢/٤١٠)]

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ – [سورة التوبة (٩/١٧)]

"مشرکین کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، جبکہ وہ خود اپنے کفر کی گواہی دینے والے ہوں۔ ان لوگوں کے اعمال برباد ہو گئے اور وہ آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔”

.

اس آیت کے متعلق اختلاف کا بیان:

فخر الدین رازی رحمہ اللہ (المتوفی: ٦٠٦ھ) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

المسألة الرابعة قال الواحدي دلت على ان الكفار ممنوعون من عمارة مسجد من مساجد المسلمين ولو اوصى بها لم تقبل وصيته ويمنع عن دخول المساجد وان دخل بغير اذن مسلم استحق التعزير وان دخل باذن لم يعزر والاولى تعظيم المساجد ومنعهم منها وقد انزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد ثقيف في المسجد وهم كفار وشد ثمامة بن اثال الحنفي في سارية من سواري المسجد الحرام وهو كافر

چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ علامہ واحدی نے فرمایا: یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کفار کو مسلمانوں کی کسی بھی مسجد کی تعمیر سے روک دیا جائے گا، اور اگر وہ اس کی وصیت کریں تو ان کی وصیت قبول نہیں کی جائے گی۔ نیز انہیں مساجد میں داخل ہونے سے بھی روکا جائے گا، اور اگر وہ کسی مسلمان کی اجازت کے بغیر داخل ہوں تو وہ سزا کے مستحق ہوں گے، اور اگر اجازت سے داخل ہوں تو سزا نہیں دی جائے گی۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ مساجد کی تعظیم کی جائے اور انہیں وہاں سے روکا جائے؛ حالانکہ رسول اللہ نے وفدِ ثقیف کو مسجد میں ٹھہرایا تھا جبکہ وہ کافر تھے، اور ثمامہ بن اثال حنفی کو مسجدِ حرام کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھا تھا جبکہ وہ کفر کی حالت میں تھے۔

[تفسير الفخر الرازي (١٦/٩)]

.

ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ (المتوفی: ٧٩٥ھ) فرماتے ہیں:

ويتوجه قول ثابت وهو ان الكافر ان بنى مسجدا للمسلمين من ماله لم يمكن من ذلك ولو لم يباشره بنفسه وان باشر بناءه بنفسه باستئجار المسلمين له جاز فان في قبول المسلمين منة الكفار ذلا للمسلمين بخلاف استئجار الكفار للعمل للمسلمين فان فيه ذلا للكفار وقد اختلف الناس في هذا ايضا على قولين احدهما انه لو وصى الكافر بمال للمسجد او بمال يعمر به مسجد او يوقد به فانه تقبل وصيته وصرح به القاضي ابو يعلى في تعليقه في مسألة الوقيد وكلامه يدل على انه محل وفاق وليس كذلك والثاني المنع من ذلك وانه لا تقبل الوصية بذلك وصرح به الواحدي في تفسيره وذكره ابن مزين في كتاب سير الفقهاء عن يحيى بن يحيى قال سمعت مالكا وسئل عن نصراني اوصى بمال تكسى به الكعبة فأنكر ذلك وقال الكعبة منزهة عن ذلك وكذلك المساجد لا تجري عليها وصايا اهل الكفر وكذلك قال محمد بن عبد الله الانصاري قاضي البصرة لا يصح وقف النصراني على المسلمين عموما بخلاف المسلم المعين والمساجد من الوقف على عموم المسلمين ذكره حرب عنه باسناده وقال عبد الله بن احمد سألت ابي عن المرأة الفقيرة تجيء الى اليهودي او النصراني فتصدق منه قال اخشى ان ذلك ذلة وقال مهنا قلت لاحمد يأخذ المسلم من النصراني من صدقته شيئا قال نعم اذا كان محتاجا فقد يكون عن احمد روايتان في كراهة اخذ المسلم المعين من صدقة الذمي وقد يكون كره السؤال ورخص في الاخذ منه بغير سؤال والله اعلم واما وقفهم على عموم المسلمين كالمساجد فيتوجه كراهته بكل حال كما قاله الانصاري

.

اور ایک قولِ ثابت یہ ہے کہ اگر کافر اپنے مال سے مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کرے تو اسے اس کا موقع نہیں دیا جائے گا، اگرچہ وہ خود اس میں براہِ راست شریک نہ ہو، لیکن اگر وہ مسلمانوں کے لیے کام کرنے کی غرض سے اجرت پر خود تعمیر میں شریک ہو تو یہ جائز ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کا کفار کا احسان قبول کرنا مسلمانوں کے لیے باعثِ ذلت ہے، بخلاف اس کے کہ کفار کو مسلمانوں کے کام کے لیے اجرت پر رکھا جائے کہ اس میں کفار کے لیے ذلت ہے۔ اور اس مسئلے میں لوگوں کا اختلاف ہے جس میں دو اقوال ہیں: ایک یہ کہ اگر کافر مسجد کے لیے یا اس کی تعمیر یا اس میں روشنی کے لیے مال کی وصیت کرے تو اس کی وصیت قبول کی جائے گی، اور قاضی ابو یعلیٰ نے "تعلیقمیں چراغاں کے مسئلے میں اس کی صراحت کی ہے اور ان کا کلام اس بات پر دال ہے کہ یہ محلِ اتفاق ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اور دوسرا قول اس کی ممانعت کا ہے کہ اس بارے میں وصیت قبول نہیں کی جائے گی، واحدی نے اپنی تفسیر میں اس کی صراحت کی ہے اور ابن مزین نے "سیر الفقہاءمیں یحییٰ بن یحییٰ کے واسطے سے ذکر کیا کہ میں نے امام مالک سے سنا جب ان سے ایک نصرانی کے بارے میں سوال ہوا جس نے کعبہ کے غلاف کے لیے مال کی وصیت کی تھی؟ تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا: کعبہ اس سے منزہ ہے۔ اسی طرح مساجد پر بھی اہل کفر کی وصیتیں نافذ نہیں ہوں گی۔ اور بصره کے قاضی محمد بن عبداللہ انصاری نے کہا: نصرانی کا عمومی طور پر مسلمانوں پر وقف کرنا صحیح نہیں ہے، بخلاف کسی معین مسلمان کے، اور مساجد تو تمام مسلمانوں کے لیے وقف ہوتی ہیں۔ عبداللہ بن احمد نے کہا: میں نے اپنے والد سے ایک فقیر عورت کے متعلق پوچھا جو کسی یہودی یا نصرانی کے پاس جا کر صدقہ لیتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ ذلت ہے۔ اور مہنا نے کہا: میں نے امام احمد سے پوچھا کہ کیا مسلمان نصرانی کے صدقہ سے کچھ لے سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جب وہ محتاج ہو۔ تو امام احمد سے دو روایتیں ہو سکتی ہیں، ایک ذمی کے صدقہ لینے کی کراہت میں، یا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مانگنے کو ناپسند کیا ہو اور بلا سوال لینے کی رخصت دی ہو۔ اور جہاں تک مسلمانوں کے عمومی کاموں جیسے مساجد پر ان کے وقف کا تعلق ہے، تو ہر حال میں اس کی کراہت کا قول ہی متعین ہے، جیسا کہ انصاری نے فرمایا۔

[فتح الباري لابن رجب الحنبلي (٣/٢٩٨)]

.

شافعی علماء اور جمہور کے موقف کا بیان:

الخطيب الشربيني الشافعی (ت ٩٧٧ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وتصح الوصية من كل مسلم او كافر لعمارة او مصالح مسجد انشاء وترميما لانه قربة وفي معنى المسجد المدرسة والرباط المسبل والخانقاه وقيد في الكافي وغيره المسجد بالموجود فان اوصى لمسجد سيبنى لم تصح جزما وهو نظير ما جزم به الرافعي فيما اذا وقف على مسجد سيبنى وكذا ان اطلق الوصية للمسجد ونحوه كاوصيت له بكذا يصح في الاصح وتحمل على عمارته ومصالحه لان العرف يحمله على ذلك ويصرفه قيمه في اهمها باجتهاده والثاني يبطل لانه لا يملك كالدابة ورده الامام بان الوصية للدابة نادر مستنكر في العرف فتعين اعتبار اللفظ

ہر مسلمان یا کافر کی جانب سے مسجد کی تعمیر یا اس کے مصالح کے لیے وصیت کرنا صحیح ہے، خواہ وہ نئی تعمیر ہو یا مرمت؛ کیونکہ یہ نیکی کا کام ہے، اور مدرسہ، مسافر خانہ اور خانقاہ بھی مسجد ہی کے حکم میں ہیں۔ "الکافیاور دیگر کتب میں مسجد کی وصیت کو پہلے سے موجود مسجد کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، چنانچہ اگر کسی نے ایسی مسجد کے لیے وصیت کی جو مستقبل میں تعمیر ہوگی تو وہ قطعی طور پر صحیح نہیں ہوگی، اور یہ اس مسئلے کے مانند ہے جس کا رافعی نے یقین کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جب کسی نے ایسی مسجد پر وقف کیا جو ابھی تعمیر ہونی ہو۔ اور اسی طرح صحیح ترین قول کے مطابق اگر اس نے مسجد وغیرہ کے لیے مطلق وصیت کی جیسے یہ کہنا کہ "میں نے اس کے لیے اتنے مال کی وصیت کیتو یہ صحیح ہے۔ اور اسے اس کی تعمیر اور مصالح پر محمول کیا جائے گا؛ کیونکہ عرف اسے اسی معنی پر محمول کرتا ہے، اور مسجد کا متولی اپنے اجتہاد سے اسے اہم ترین کاموں میں صرف کرے گا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ باطل ہے کیونکہ مسجد (ذاتِ خود) کسی چیز کی مالک نہیں ہو سکتی جیسے کہ چوپایہ، لیکن امام نے اس کا رد کیا ہے کہ چوپائے کے لیے وصیت کرنا نادر اور عرف میں ناپسندیدہ ہے، لہٰذا اس صورت میں لفظ کا اعتبار متعین ہو گیا۔

[مغني المحتاج للشربيني (٤/٧٢)]

.

یاسر النجار (معاصر) مذاہب علماء جمع کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فان كان الموصى به شيئا هو قربة عندنا وعندهم بان اوصى بثلث ماله ان يتصدق به على فقراء المسلمين او على فقراء اهل الذمة او بعتق الرقاب او بعمارة المسجد الاقصى ونحو ذلك جاز في قولهم جميعا لان هذا مما يتقرب به المسلمون واهل الذمة وان كان شيئا هو قربة عندنا وليس بقربة عندهم بان اوصى بان يحج عنه او اوصى بان يبنى مسجد للمسلمين ولم يبين لا يجوز في قولهم جميعا لانهم لا يتقربون به فيما بينهم فكان مستهزئا في وصيته والوصية يبطلها الهزل

پس اگر وہ چیز جس کی وصیت کی گئی ہے ایسی ہو جو ہمارے نزدیک بھی نیکی ہے اور ان کے نزدیک بھی، جیسے اس نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی کہ اسے مسلمان فقراء یا ذمی فقراء پر صدقہ کر دیا جائے، یا غلام آزاد کرنے، یا مسجدِ اقصیٰ کی تعمیر وغیرہ کی وصیت کی، تو ائمہ کے قولِ متفق کے مطابق یہ جائز ہے؛ کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کے ذریعے مسلمان اور اہلِ ذمہ دونوں قربت حاصل کرتے ہیں۔ اور اگر وہ ایسی چیز ہو جو ہمارے نزدیک تو نیکی ہے مگر ان کے نزدیک نہیں، جیسے اس نے اپنی طرف سے حج کروانے کی وصیت کی یا مسلمانوں کے لیے مسجد بنانے کی مبہم وصیت کی، تو تمام ائمہ کے نزدیک یہ جائز نہیں؛ کیونکہ وہ آپس میں اس کے ذریعے نیکی نہیں سمجھتے، لہٰذا وہ اپنی وصیت میں استہزاء کرنے والا ٹھہرا، اور ہنسی مذاق وصیت کو باطل کر دیتا ہے۔

[موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة للنجار (٢٤/١٩٥)]

.

ابن قدامة (ت ٦٢٠ھ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

واذا اوصى الكافر لاهل قريته فهل يدخل فيها المسلمون على وجهين وتصح الوصية للحربي والمرتد والقاتل وعنه لا تصح للقاتل فان اوصى للمسجد او لكتب القرآن والفقه صح وان اوصى لكنيسة او كتب التوراة او الانجيل لم يصح

جب کافر اپنے گاؤں والوں کے لیے وصیت کرے، تو کیا اس میں مسلمان بھی داخل ہوں گے؟ اس میں دو وجوہات (اقوال) ہیں۔ اور حربی کافر، مرتد اور قاتل کے لیے وصیت کرنا صحیح ہے۔ اور امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ قاتل کے لیے وصیت صحیح نہیں۔

پھر اگر اس نے مسجد کے لیے، یا قرآن و فقہ کی کتب لکھنے کے لیے وصیت کی، تو وہ صحیح ہے۔ اور اگر اس نے کلیسا کے لیے، یا تورات و انجیل کی کتب لکھنے کے لیے وصیت کی، تو وہ صحیح نہیں۔

[عمدة الحازم في الزوائد على مختصر أبي القاسم (ص٣٢٠)]

.

ابن قدامہ رحمہ اللہ (المتوفی: ٦٢٠ھ) فرماتے ہیں:

واذا صحت وصية المسلم للذمي فوصية الذمي للمسلم والذمي للذمي اولى ولا تصح الا بما تصح به وصية المسلم للمسلم

جب مسلمان کی وصیت ذمی کے لیے صحیح ہے، تو ذمی کی وصیت مسلمان کے لیے اور ذمی کی وصیت ذمی کے لیے بدرجہ اولیٰ صحیح ہے، اور وہ صرف انہی چیزوں میں صحیح ہوگی جن میں ایک مسلمان کی وصیت دوسرے مسلمان کے لیے صحیح ہوتی ہے۔

[المغني لابن قدامه (٨/٥١٢)]

.

.

ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ (المتوفی: ٩٧٤ھ) فرماتے ہیں:

وكذا اذا اوصى لغير جهة يشترط عدم المعصية والكراهة ايضا ومن ثم بطلت لكافر بنحو مسلم او مصحف وكان وجه اقتصاره على الاولى كثرة وقوعها وقصدها بخلاف غير الجهة وشمل عدم المعصية القربة كبناء مسجد ولو من كافر ونحو قبة على قبر نحو عالم في غير مسبلة وتسوية قبره ولو بها لا بنائه ولو بغيرها للنهي عنه وفي زيادات العبادي لو اوصى بان يدفن في بيته بطلت الوصية

اسی طرح اگر کسی مخصوص جہت کے علاوہ وصیت کی گئی ہو تو اس میں بھی معصیت اور کراہت نہ ہونے کی شرط ہے۔ اسی وجہ سے کافر کے لیے مسلمان غلام یا قرآنِ کریم کی وصیت باطل ٹھہرے گی۔ اور معصیت نہ ہونے کی شرط میں نیک کام بھی شامل ہیں جیسے مسجد کی تعمیر، اگرچہ وہ کافر ہی کی طرف سے ہو، اور جیسے غیر وقف شدہ زمین میں کسی عالم وغیرہ کی قبر پر قبہ بنانا، اور قبر کو برابر کرنا، اگرچہ وہ مسبلہ (وقف) زمین ہی میں کیوں نہ ہو؛ البتہ قبر کی تعمیر کی وصیت باطل ہے کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔ اور عبادی کے زیادات میں ہے کہ اگر کسی نے اپنے گھر میں دفن کیے جانے کی وصیت کی تو وہ وصیت باطل ہے۔

[تحفة المحتاج لابن حجر الهيتمي (٧/٥)]

.

.

ابن تيمية رحمہ اللہ (ت ٧٢٨ھ) فرماتے ہیں:

ومن المعلوم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي الى الكعبة التي بناها المشركون

یہ بات معلوم و معروف ہے کہ نبی کریم اس کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے جسے مشرکین نے تعمیر کیا تھا۔

[منهاج السنة النبوية (٤/١٤٧)]

.

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (المتوفی: ١٤٢٠ھ) سے دریافت کیا گیا: کیا کفار مزدوروں سے مسجد کی مرمت کروانا جائز ہے؟ آپ نے جواب دیا:

لا العمال لا يرون المساجد لا يؤمنون لكن لو دخلوا المسجد ليشربوا او يسمعوا فائدة ما في بأس

نہیں، مزدور مساجد کی دیکھ بھال نہیں کریں گے، ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر وہ پانی پینے یا کسی فائدے کی بات سننے کے لیے مسجد میں داخل ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

[فتاوى الشيخ ابن باز (الموقع الرسمي) – ما حكم صيانة عمال غير مسلمين للمسجد]

.

امام نووی رحمہ اللہ (المتوفی: ٦٧٦ھ) فرماتے ہیں: امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:

اذا كان معه مال حرام واراد التوبة والبراءة منه، فان كان له مالك معين وجب صرفه اليه او الى وكيله، فان كان ميتا وجب دفعه الى ورثته، وان كان لمالك لا يعرفه ويئس من معرفته فينبغي ان يصرفه في مصالح المسلمين العامة، كالقناطر والربط والمساجد ومصالح طريق مكة، ونحو ذلك مما يشترك فيه المسلمون

جب کسی شخص کے پاس مالِ حرام ہو اور وہ اس سے توبہ اور براءت کا ارادہ رکھے، تو اگر اس کا مالکِ معین معلوم ہو تو اسے یا اس کے وکیل کو وہ مال لوٹانا واجب ہے، اور اگر وہ فوت ہو چکا ہو تو اسے اس کے ورثاء کے سپرد کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر وہ ایسے مالک کا مال ہو جس کی پہچان نہ ہو سکے اور اس کی معرفت سے مایوسی ہو جائے، تو مناسب یہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے عمومی مصالح میں صرف کر دیا جائے، جیسے پلوں، مسافر خانوں اور مساجد کی تعمیر، اور مکہ مکرمہ کے راستے کی سہولیات، اور اسی طرح کے دیگر کام جن میں تمام مسلمان شریک ہوں۔

[المجموع شرح المهذب للنووي (٩/٣٥١)]

.

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ [سورة التوبة (٩/١٩)]

"کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی تعمیر کو اس شخص کے برابر ٹھہرا لیا ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک یہ برابر نہیں ہیں۔”

.

ابن تیمیہ رحمہ اللہ (المتوفی: ٧٢٨ھ) فرماتے ہیں:

واما نفس بناء المساجد فيجوز ان يبنيها البر والفاجر والمسلم والكافر وذلك يسمى بناء كما قال النبي صلى الله عليه وسلم من بنى لله مسجدا بنى الله له بيتا في الجنة

جہاں تک نفسِ تعمیرِ مساجد کا تعلق ہے، تو یہ جائز ہے کہ اسے نیک ہو یا بد، مسلمان ہو یا کافر (سبھی) تعمیر کریں، اور اسے تعمیر ہی کہا جائے گا جیسا کہ نبی نے فرمایا: "جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔”

[مجموع الفتاوى لابن تيمية (١٧/٤٩٩)]

.

.

شمس الدین رملی رحمہ اللہ (المتوفی: ١٠٠٤ھ) فرماتے ہیں:

وتصح لعمارة نحو مسجد

اور مسجد کی تعمیر کے لیے وصیت کرنا صحیح ہے۔

.

علي بن إبراهيم الخياط الرشيدي الشافعي (المتوفی: ١٠٩٠ هـ) نے [حاشية الرشيدي] میں فرمایا:

ورباط ومدرسة ولو من كافر انشاء وترميما

اور اسی طرح مسافر خانہ اور مدرسہ وغیرہ تعمیر کرنا، اگرچہ وہ کافر ہی کی جانب سے کیوں نہ ہو، خواہ وہ نئی تعمیر ہو یا مرمت۔

.

جبکہ علي الشبراملسي الشافعي رحمہ اللہ (المتوفی: ١٠٨٧ھ) [حاشية الشبراملسي] میں فرماتے ہیں:

قوله وتصح لعمارة نحو مسجد بقي ما لو قال بعمارة مسجد كذا هل تصح الوصية ام لا فيه نظر والاقرب الاول ويؤخذ من تركته ما يعمر به ما يسمى عمارة عرفا وهل يتوقف على انشاء صيغة وقف منه ام لا فيه نظر والاقرب الثاني حيث كانت العمارة ترميما مما اوصى به اما لو اوصى بانشاء مسجد فاشترى قطعة ارض وبناها مسجدا فالظاهر انه لا بد من الوقف لها ولما فيها من الابنية من القاضي او نائبه مسجدا ولو كان المسجد غير محتاج لما اوصى له به حالا فينبغي حفظ ما اوصى له به حيث توقع زمان يمكن الصرف فيه فان لم يتوقع كان كان محكم البناء بحيث لا يتوقع له زمان يصرف فيه ما اوصى به فالظاهر بطلان الوصية وصرف ما عين لها للورثة ومراده بنحو المسجد ما فيه منفعة عامة كالقناطر والجسور والابار المسبلة وغيرها

اس قول کہ "مسجد وغیرہ کی تعمیر کی وصیت صحیح ہےپر یہ بات تشنہ طلب ہے کہ اگر کسی نے یوں وصیت کی کہ "فلاں مسجد کی تعمیر کر دی جائےتو کیا یہ وصیت صحیح ہوگی یا نہیں؟ اس میں تامل ہے، اور اقرب الی الصواب پہلا قول یعنی صحت ہی ہے، اور اس کے ترکے میں سے اتنی مقدار لی جائے گی جس سے عرفِ عام میں تعمیر کہلانے والا کام ہو سکے۔ اور کیا یہ وصیت اس موصی کی طرف سے صیغہ وقف کے انشاء پر موقوف ہے یا نہیں؟ اس میں بھی تامل ہے، اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وقف کے صیغے کی ضرورت نہیں بشرطیکہ وہ تعمیر ان اشیاء کی مرمت کی قبیل سے ہو جس کی اس نے وصیت کی ہے۔ البتہ اگر اس نے نئی مسجد بنانے کی وصیت کی، پس وصی نے زمین کا ٹکڑا خریدا اور اسے مسجد بنا دیا، تو ظاہر یہی ہے کہ قاضی یا اس کے نائب کی جانب سے اس زمین اور اس پر موجود عمارت کو بطورِ مسجد وقف کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر وہ مسجد فی الوقت اس وصیت کردہ مال کی حاجت مند نہ ہو، تو مناسب یہ ہے کہ اس مال کو محفوظ رکھا جائے یہاں تک کہ ایسا وقت آئے جب اسے صرف کرنا ممکن ہو سکے۔ پس اگر ایسے وقت کی توقع ہی نہ ہو، مثلاً وہ عمارت ایسی مستحکم ہو کہ مستقبل میں اس پر خرچ کی حاجت متوقع نہ ہو، تو ظاہر یہ ہے کہ وصیت باطل ہو جائے گی اور وہ معین مال ورثاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اور مسجد کی مانند دیگر چیزوں سے مراد وہ اشیاء ہیں جن میں نفعِ عام ہو، جیسے بڑے اور چھوٹے پل اور وہ کنویں جو عامۃ المسلمین کے لیے وقف ہوں۔

[نهاية المحتاج للرملي مع الحوامش (٦/٤٧)]

.

شمس الدین ابن مفلح رحمہ اللہ (المتوفی: ٧٦٣ھ) فرماتے ہیں:

وتجوز عمارة كل مسجد وكسوته واشعاله بمال كل كافر وان يبنيه بيده ذكره في الرعاية وغيرها وهو ظاهر كلامهم في وقفه عليه ووصيته له فيكون على هذا العمارة في الآية ودخوله وجلوسه فيه يدل عليه خبر ابي سعيد المرفوع اذا رأيتم الرجل يعتاد المسجد فاشهدوا له بالايمان فان الله تعالى يقول إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ الآية رواه احمد وابن ماجه والترمذي وحسنه من رواية دراج ابي السمح وهو ضعيف او معنى الآية ما كان لهم ان يتركوا فيكونوا اهل المسجد الحرام

ہر مسجد کی تعمیر، اس کی زیب و زینت اور اس کی روشنی کا انتظام کسی بھی کافر کے مال سے کرنا جائز ہے، اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اسے تعمیر کرے۔ یہ بات "الرعایۃاور دیگر کتب میں مذکور ہے، اور مسجد پر کافر کے وقف اور اس کے لیے اس کی وصیت کے متعلق ائمہ کا کلام اسی پر دال ہے۔ چنانچہ آیت میں مذکورعمارتاور مسجد میں کافر کا داخل ہونا اور بیٹھنا بھی اسی پر محمول ہوگا، جس پر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت دلالت کرتی ہے: "جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ مسجد کا عادی ہے تو اس کے لیے ایمان کی گواہی دو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللہ کی مساجد کو تو وہی آباد کرتے ہیں (جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائے)۔” اسے احمد، ابن ماجہ اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے دراج ابوالسمح کی روایت سے حسن قرار دیا ہے، حالانکہ وہ ضعیف ہیں؛ یا پھر آیت کا معنی یہ ہے کہ انہیں اس بات کا حق نہیں کہ وہ اس حال میں چھوڑ دیے جائیں کہ وہ مسجدِ حرام کے متولی کہلائیں۔

[الفروع لابن مفلح (١٠/٣٤٤)]

.

بعض کا مال کے حلال ہونے کی شرط لگانا:

شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ (پیدائش: ١٩٣٣ء) سے دریافت کیا گیا: کیا کافر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے مسجد تعمیر کرے اور کیا مسلمان اسے قبول کریں گے؟

آپ نے جواب دیا:

لا بأس بذلك اذا كان المال حلالا ليس فيه شبهة ولا حرام فلا بأس ولكن كون المساجد يبنيها مسلمون فلا شك ان هذا ابعد عن الاشكال واحسن لكن اذا تبرع كافر بمال حلال وبنى به مسجدا فلا مانع من الصلاة فيه

اس میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ مال حلال ہو اور اس میں کوئی شبہ یا حرام (کمائی) شامل نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن مساجد کا مسلمانوں کے ہاتھوں تعمیر ہونا بلاشبہ اشکال سے بعید اور زیادہ بہتر ہے، البتہ اگر کوئی کافر مالِ حلال سے مسجد تعمیر کر دے تو اس میں نماز ادا کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔

[فتاوى الشيخ صالح الفوزان (مقطع مرئي: ٣١٨٦-٤٧١٧)]

.

واللہ اعلم۔