Islamic Center in Karachi, Pakistan for Islamic Education and Community Services.

سب سے پہلے : توحید

ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ (النحل : ۳۶)

سیدنا ومحبوبنا محمد رسول اللہ ﷺ نے جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا:

(( فَلْيَكُنُ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَن يُوَحِدُوا اللَّهَ تَعَالَى ))
تم انھیں سب سے پہلے اللہ کی توحید کی طرف دعوت دو۔
( صحیح بخاری:۷۳۷۲، کتاب التوحید )

سیدنا حارث بن حارث العائذی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں جب جاہلیت میں مکہ آیا تو دیکھا کہ نبی ﷺ کے پاس لوگ جمع ہیں، میں نے اپنے والد سے پوچھا: یہ لوگ کیوں جمع ہیں؟ اس نے کہا: یہ لوگ ایک صابی کے پاس جمع ہیں۔

”فإذا النبي يدعو إلى توحيد الله والإيمان“
میں نے ( قریب آکر ) دیکھا تو نبی ﷺ توحید اور ایمان کی طرف دعوت دے رہے تھے۔

( التاریخ الکبیر للبخاری ۲۶۲/۲ و سنده صحیح وصححه ابوزرعة الدمشقی کما فی تاریخ دمشق لابن عسا کر ۲۱۳/۱۲ ۲۱۴ ، ورواه ابن ابی عاصم فی الآحاد والمثانی ۳۷۴/۵ ۲۹۷۶۲ )

درج بالا دونوں حدیثوں سے توحید الہی کی اہمیت کا پتا چلتا ہے اور یہ ایک داعی کے لئے راہ متعین کر رہی ہیں کہ دعوت کے میدان میں دعوت توحید کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے، دین اسلام کی اساس توحید ہے لہذا پہلی دعوت توحید الہی کی ہی ہونی چاہئے، نماز اور جہاد تب مقبول ہوں گے جب توحید میں کسی قسم کی کھوٹ اور شرک کی آمیزش نہ ہو۔

أسوۃ النبی ﷺ اور سیرت سلف صالحین سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دعوت تو حید کو اولین حیثیت حاصل ہے لہذا ہر انسان پر یہ فرض ہے کہ توحید و سنت کا راستہ اختیار کر کے اللہ تعالی کی عبادت میں اپنی ساری زندگی گزارے اور اپنی تمام عبادات خالص اللہ ہی کے لئے سرانجام دے۔ یہ عقیدہ دل میں راسخ کرلے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت صرف الله رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اللہ کا فرماں بردار ( مسلم ) ہوں۔ (شیخ نے سورۃ الانعام کی آیت ١٦٣ کی طرف اشارہ کیا۔)

جس نے تو حید کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے سارے اعمال ضائع کر دے گا۔ ارشاد باری تعالی ہے:

وَإِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَا وَهُ النَّارُ
بے شک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس شخص کا ٹھکانا ( جہنم کی آگ ہے۔ (المائدۃ: ۷۲)

اے اللہ ! ہمیں تو حید و سنت پر زندہ رکھ اور اسی پر ہمارا خاتمہ کر۔ آمین

(یہ مقالہ فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا ہے، دیکھئے ان کے مقالات ج٢ ص١٣، ١٤)